نئی دہلی: ایس ایم اکرم جو بی جے پی کے ایک مخلص، فعال اور متحرک رہنما ہیں، آج کل تنظیم کے اندر ایک بااثر اور مضبوط قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ اس وقت بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی نائب صدر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سن 1987 میں بی جے پی سے وابستہ ہو کر ایس ایم اکرم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ایک بوتھ سطح کے کارکن کے طور پر کیا۔ مسلسل محنت، وفاداری اور لگن کے ذریعے انہوں نے ضلع، منڈل، ریاست اور قومی سطح پر مختلف اہم ذمہ داریوں کو کامیابی کے ساتھ نبھاتے ہوئے تنظیم میں اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کی ہے۔
اپنے طویل سیاسی تجربے کے دوران انہوں نے تنظیم کی توسیع، کارکنان کو مضبوط بنانے اور معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً اقلیتی برادری تک پارٹی کی پالیسیوں اور مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں کو پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ایس ایم اکرم کا ماننا ہے کہ “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی عزم ہے، جسے انہوں نے زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی سادہ مزاجی، خوش اخلاقی اور کارکنان کے ساتھ قریبی تعلق انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز بناتا ہے۔
عوامی خدمت کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے غریب، نادار، معذور اور محروم طبقات تک سرکاری اسکیموں کے فوائد پہنچانے میں سرگرم کردار ادا کیا ہے، اور مختلف سماجی تنظیموں کے ذریعے بھی مسلسل عوامی فلاح کے کاموں میں مصروف رہے ہیں۔
مشکل حالات میں بھی ایس ایم اکرم نے ہمیشہ تنظیم کے تئیں اپنی وابستگی برقرار رکھی۔ عوامی مسائل پر تحریکوں میں سرگرم شرکت اور ہر کٹھن وقت میں تنظیم کے ساتھ کھڑے رہنے کی روایت نے انہیں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد رہنما کے طور پر قائم کیا ہے۔
آج تنظیم میں ان کے وسیع تجربے، زمینی اثر و رسوخ، اقلیتی طبقے میں اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے آئندہ قومی صدر کے عہدے کے لیے ایک مضبوط اور موزوں دعویدار مانا جا رہا ہے۔
یقیناً ایس ایم اکرم کی قیادت تنظیم کو نئی سمت، نئی توانائی اور نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

