جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے نادی الطلبہ کی پروقارافتتاحی تقریب، دینی، علمی اور سماجی شخصیات کی شرکت
نئی دہلی کے جنوبی علاقے میں واقع جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے نادی الطلبہ کی افتتاحی تقریب نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں علاقہ جیت پور اور قرب و جوار سے دینی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس بابرکت تقریب میں طلبہ کی علمی و تربیتی رہنمائی کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کا بھی مؤثر اہتمام کیا گیا۔
تقریب کا آغاز معہد کے ہونہار طالب علم محمد ثاقب قمر الزماں کی دلنشیں تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس نے حاضرین کے قلوب کو نورِ قرآن سے منور کردیا۔ اس کے بعد معہد کے طالب علم محمد رستم مجیب الرحمن نے نہایت خوبصورت اور پُرسوز انداز میں نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس سے محفل کا روحانی ماحول مزید معطر ہوگیا۔ بعد ازاں محمد افضل صدرعالم، عبدالرؤوف ولی اللہ،محمد وسیم عبدالہادی، محمد ہاشم محمدحسین، محمد افضل شبیرعالم، محمدشارق قاری عزیر، شہاب الدین عیسیٰ، حسیب اللہ فیروز اختر، عبداللہ فیروز اختر، شہنواز سکندر اور دیگر طلبہ نے مختلف عناوین پر اپنی شاندار تقریری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے سن کر سامعین بے حد متاثر ہوئے اور طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کیں۔
اس موقع پر جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے مدیر مولانا محمد اظہر مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ طلبہ کرام کو اپنا مقام و مرتبہ جان کر اپنی قدر کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب طلبہ اپنے مقام و مرتبہ کو پہچان لیتے ہیں تو وہ طلبِ علم کی راہ میں محنت و لگن کا عملی ثبوت دیتے ہیں اور اس سلسلے میں سستی و کوتاہی سے بچتے ہیں۔ قرآن کریم اور سنتِ رسول ﷺ سے تعلق سب سے بہترین اور پاکیزہ تعلق ہے، اور اس تعلق سے وابستہ افراد کی فضیلت و برتری کی گواہی خود رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ آپ ﷺ نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ علومِ دینیہ کے طلبہ کے لیے فرشتے سمندروں کی تہوں میں اور چیونٹیاں اپنے بلوں میں دعائیں کرتی ہیں، اور ان کے اکرام میں فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔
مولانا نے مزید فرمایا کہ طلبِ علم کی راہ میں جہدِ مسلسل اور محنتِ پیہم ناگزیر ہے۔ علم ایک نایاب جوہر ہے، جو جسم کو راحت پہنچانے، دنیاوی مشاغل میں الجھنے اور گناہوں میں مبتلا رہنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس حقیقت کا ادراک ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے، تاکہ وہ اپنے والدین، اساتذہ اور ادارے کے ذمہ داران کی امیدوں پر پورا اتر سکے اور ایسے تمام امور سے اجتناب کرے جو اسے علم کے راستے سے دور کردیں۔
انہوں نے ادارے کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم جنوبی دہلی کا ایک مایہ ناز تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے، جہاں قابل اور فاضل اساتذہ کی نگرانی میں دینی تعلیم کا معیاری انتظام ہے۔ طلبہ کی آرام و آسائش کا بھی بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔ آپ اس موقع کو غنیمت جانیں اور طلبِ علم کی راہ میں خود کو پوری طرح وقف کردیں، تاکہ کندن کی طرح تپ کر خالص جوہر بن سکیں، سماج و معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں، ادارے کی نیک نامی کا باعث بنیںاور ایک بہترین شہری اور معاشرے کے لیے مثالی انسان بنیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے طلبہ کو قیمتی نصیحتوں سے نوازتے ہوئے کہا کہ نظم و ضبط انسانی زندگی کا لازمی جز ہے۔نظم و ضبط ہی سے شخصیت بنتی ہے، سعادتِ دارین حاصل ہوتی ہے اور زندگی میں کامیابی و کامرانی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اس لیے آپ ادارے کے نظم و ضبط کو حرزِ جاں بنائیں۔ جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے ذمہ داران، بالخصوص مدیر مولانا محمد اظہر مدنی، قوم و ملت کے نونہالوں کے تئیں نہایت مخلص ہیں اور اپنے دلوں میں ان کے روشن مستقبل کے لیے سچا جذبہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ طلبہ کرام کو چاہیے کہ وہ طلبِ علم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے اخلاق و کردار کو بھی سنواریں اور قوم و سماج کے تئیں احساسِ ذمہ داری پیدا کریں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے علم کے حصول میں محنت و لگن سے کام لیں گے۔
محمد احمد سنابلی ایڈیٹر وطن سماچار نے اپنے خطاب میں کہاکہ اساتذہ کی عزت و احترام کو لازم پکڑیں، کیونکہ بڑوں کی عزت کرنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ ان کی دعائیں انسان کی شخصیت کو سنوار دیتی ہیں۔ آپ ادارے کے سرپرست مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، کیونکہ وہ آج جس مقام پر فائز ہیں وہ ان کی اپنی گوناگوں خوبیوں کے ساتھ نیکی، علم دوستی، علماء کی قدر دانی اور طلبہ کی تکریم کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کے مدیر مولانا محمد اظہر مدنی ایک فعال اور متحرک نوجوان ہیں۔ ان شاء اللہ یہ بچے آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت بنیں گے، کیونکہ آپ جس اخلاص کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں، اللہ تعالیٰ اس سعی کو ہرگز ضائع نہیں فرمائے گا۔
مولانا محمد اشفاق ریاضی سلفی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے فضائل کتاب و سنت میں کثرت سے وارد ہوئے ہیں۔ آپ نے ایک بہترین ادارے کا انتخاب کیا ہے۔ آپ محنت و لگن کے ساتھ علم کی راہ میں لگے رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے گا۔
اس کے علاوہ عبدالمومن سنابلی، مولانا محمد نسیم فیضی اور قاری عبدالرحمن ثاقبی نے بھی اپنے خطابات کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کی۔تقریب میں جیت پور اور اطراف کے معزز افراد کی بڑی تعداد شریک رہی، جن میں جناب محمد طلحہ، عبدالقادر سلفی، محمد وسیم ریاضی، ارشاد احمد ریاضی، انجینئر تسلیم عارف، انجینئر نورالدین، جناب عبدالماجد، مجیب اللہ صاحب، جناب علی اختر صاحب، حکیم محمد احمد، فردوس مسجد کے امام مولانا ایاز احمد بخاری، مولانا سیف سراج فیضی، عبداللہ سلفی، قاری عبدالواحد میرٹھی ، قاری امروز صاحب، ماسٹر اشفاق احمد اور مولانا سعیدالرحمن نورالعین سنابلی خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔

