نئی دہلی: کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے بھارتی یوتھ کانگریس کے ہیڈکوارٹر میں نوجوان رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور یوتھ کانگریس کے شرٹ لیس احتجاج کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک قوم کے باپ مہاتما گاندھی کی جدوجہد کی یاد تازہ کرتی ہے اور ایک پُرامن و جمہوری اندازِ احتجاج کی مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن شہریوں کو اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ملک کا آئین، جسے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے مرتب کیا، ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی اور غلط پالیسیوں کے ذریعے عوامی حقوق کو متاثر کرے تو ملک کے شہریوں کا فرض ہے کہ وہ جمہوری طریقے سے آواز بلند کریں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بے شرم ہو جائے، انتظامیہ لاپروا ہو، میڈیا بے مقصد ہو اور وزیر اعظم ناکام ثابت ہوں تو یوتھ کانگریس بھی اپنے احتجاج کو شرٹ لیس ہو کر درج کرا سکتی ہے۔ انہوں نے اس احتجاج کو مکمل طور پر جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاندھی جی کی تحریکوں کی یاد دلاتا ہے۔
بھارتی یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب کی ضمانت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہمیں ملک کی عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔ عدالت کے فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جمہوریت میں پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کانگریس کے قانونی شعبہ اور وکلاء کو مبارکباد پیش کی کہ ان کی مؤثر پیروی سے انصاف ملا۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر نوجوان پُرامن طور پر احتجاج کرتے ہیں تو ان کے گھروں پر رات کے وقت پولیس کارروائیاں کیوں کی جا رہی ہیں اور بے بنیاد مقدمات کیوں قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کرنا جتنا بڑا جرم ہے، ظلم سہنا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے۔
آخر میں انہوں نے آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یوتھ کانگریس کا یہ اقدام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

