اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جو صبر، استقامت، ایثار، قربانی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی لازوال مثال ہے۔ نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دینِ اسلام کی سربلندی، امت کی اصلاح اور حق کی حفاظت کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت اور اپنے وفادار رفقاء کی بے مثال قربانی پیش کی۔ آپ کی شہادت رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز قائم رکھنے کا روشن مینار ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید نے اپنی خلافت کے استحکام کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت کا مطالبہ کیا، لیکن امام عالی مقام نے ایسے شخص کی بیعت کو مناسب نہ سمجھا جس کے کردار اور طرزِ عمل پر امت کے ایک بڑے طبقے کو شدید اعتراضات تھے۔ چنانچہ آپ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔
اسی دوران اہلِ کوفہ کی جانب سے آپ کے پاس متعدد خطوط پہنچے، جن میں آپ کو کوفہ آنے اور اپنی قیادت قبول کرنے کی دعوت دی گئی۔ حالات کی تحقیق کے لیے آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ روانہ فرمایا، لیکن حالات اچانک بدل گئے اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ بیت اور رفقاء کے ساتھ سفر کرتے ہوئے 2 محرم 61 ہجری کو کربلا پہنچے۔ وہاں یزیدی لشکر نے آپ کا محاصرہ کر لیا اور چند روز بعد دریائے فرات سے پانی حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ شدید گرمی، پیاس اور سخت مصائب کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جانثار ساتھی صبر و رضا اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
شبِ عاشور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء سے فرمایا کہ اگر کوئی جانا چاہے تو چلا جائے، کیونکہ دشمن کا اصل ہدف صرف میری ذات ہے۔ مگر وفادار ساتھیوں نے یک زبان ہو کر عرض کیا کہ ہم آپ کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ وفاداری، اخلاص اور جانثاری اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔
10 محرم 61 ہجری کو معرکۂ کربلا برپا ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے جانثار ساتھی یکے بعد دیگرے راہِ حق میں شہید ہوتے گئے۔ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ، حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیت و اصحاب نے عظیم شجاعت، صبر اور وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دیں۔ آخرکار حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی انتہائی مظلومانہ انداز میں جامِ شہادت نوش فرما گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و فضیلت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
ترجمہ: “حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔”
(جامع ترمذی، حدیث: 3775)
شہادت کے بعد اہلِ بیتِ اطہار کو قیدی بنا کر پہلے کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے نہایت صبر، وقار اور حکمت کے ساتھ حق کی ترجمانی کی اور ایسے تاریخی خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے ظلم کے چہرے کو بے نقاب کر دیا۔ ان کے خطبات نے امت کو یہ ابدی پیغام دیا کہ حق وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ کے لیے مٹایا نہیں جا سکتا۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایک مسلمان کو ہر حال میں حق کا ساتھ دینا چاہیے، ظلم و جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے، دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور صبر، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی قیامت تک حق کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار سے سچی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے، حق و انصاف کی حمایت کرنے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(ماخوذ از: سوانحِ کربلا)
مفتی سلیمان منظری، شہرِ امام، آگرہ

