بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملوں کے خلاف لکھنؤ میں احتجاجی آواز بلند
لکھنؤ۔ بنگلہ دیش میں اقلیتی طبقے، خصوصاً ہندو برادری کے خلاف جاری قتل و غارت گری اور مظالم پر مسلم راشٹریہ منچ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت لکھنؤ کے گومتی نگر علاقے میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی صدارت منچ کے قومی کنوینر سید رضا حسین رضوی نے کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کسی بھی ملک میں مذہب یا شناخت کی بنیاد پر کی جانے والی تشدد آمیز کارروائیاں نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ سماج میں نفرت، خوف اور عدم استحکام کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ مقررین نے بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے امن، بھائی چارے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
منچ کے علاقائی تنظیمی کنوینر آلوک چترویدی نے اپنے خطاب میں کہا:
“گزشتہ 35 دنوں کے دوران بنگلہ دیش میں 11 ہندوؤں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ 5 جنوری 2026 کو بی ڈی نیوز کے 40 سالہ ایگزیکٹو ایڈیٹر رانا پرتاپ ویراگی کو قتل کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ انسانیت کا قتل ہے۔ ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔”
ان کے جذباتی بیان نے اجلاس میں موجود تمام شرکاء کو متاثر کر دیا۔
قومی نائب کنوینر ٹھاکر راجا رئیس نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات مہذب سماج کے لیے ایک بدنما داغ ہیں اور عالمی سطح پر ان کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رضا حسین رضوی نے واضح الفاظ میں کہا:
“ہم حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے سختی کے ساتھ کہے کہ اقلیتوں پر ہو رہی تشدد کو ہر حال میں روکا جائے۔ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی بھی سماج کی اصل پہچان وہاں کی اقلیتوں کے تحفظ سے ہوتی ہے۔”
اجلاس میں محمد سمیر، صابر شاہ، سلمیٰ، اشتیاق، رقصانہ نقوی، گلزار بانو، ڈاکٹر شوکت علی، معراج احمد، یاسر علی، علی جعفر سمیت متعدد سماجی کارکنان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تمام مقررین نے ایک آواز میں کہا کہ بے گناہ انسانوں کا قتل انسانیت کے خلاف سب سے بڑا جرم ہے اور دنیا کے ہر مہذب سماج کو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے امن، بھائی چارے اور انسانی حقوق کے تحفظ کا عہد کیا اور امید ظاہر کی کہ عالمی برادری اس سنگین مسئلے پر سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے گی، تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

