اسلام ایک مکمل اور منظم دین ہے۔ عبادات کے معاملے میں شریعت نے واضح رہنمائی عطا فرمائی ہے، خاص طور پر رمضان المبارک کے آغاز کے سلسلے میں۔
اگر شعبان کی 29 تاریخ کو بادل یا گردوغبار کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟
رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ”
“رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور شوال کا چاند دیکھ کر روزہ موقوف کرو، اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 1909)
📌 اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو اندازوں اور قیاس آرائیوں پر عمل نہ کیا جائے، بلکہ شعبان کے تیس دن مکمل کیے جائیں۔ یہی سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اسی میں امت کی وحدت اور اتفاق ہے۔
🌙 نیا چاند دیکھ کر کون سی دعا پڑھیں؟
نبی کریم ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو یہ مبارک دعا پڑھتے:
“اللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ”
“اے اللہ! اس چاند کو ہمارے لیے برکت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ ظاہر فرما۔”
یہ دعا مسند احمد اور سنن ترمذی میں مذکور ہے۔
✨ اس دعا میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر نئے مہینے کی شروعات اللہ کی رحمت، ایمان کی مضبوطی اور سلامتی کی دعا کے ساتھ کی جائے۔
📖 اہم نصیحت
چاند دیکھنے کے معاملے میں جلد بازی، اختلاف اور سوشل میڈیا کی افواہوں سے بچنا ضروری ہے۔
ہمیں اپنے علاقے کی معتبر شرعی کمیٹی اور علماء کے فیصلے کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ امت میں اتحاد برقرار رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق عمل کرنے، رمضان المبارک کی صحیح تیاری کرنے اور اس کی برکتوں سے مالا مال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر:
محمد اقبال
خطیب مسجد نہر والی، سکندرا، آگرہ

