لکھنؤ:ریاست کے مختلف اضلاع میں قائم مدارس میں غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے طلبہ و طالبات کے ہاسٹلز کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ وقف ترقیاتی کارپوریشن کے ڈائریکٹر شفاعت حسین نے اس معاملے میں وزیر اعلیٰ، ڈائریکٹر اقلیتی فلاح اور رجسٹرار اتر پردیش مدرسہ تعلیمی کونسل کو باقاعدہ شکایتی مکتوب ارسال کیا ہے۔
اپنے خط میں انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ریاست میں چل رہے متعدد مدارس میں بغیر محکمہ جاتی اجازت کے طلبہ اور طالبات کے ہاسٹلز قائم کیے گئے ہیں۔ ان ہاسٹلز میں بچوں کو انتہائی نامناسب اور دگرگوں حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ طلبہ کو زمین پر سونے اور بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ بستروں، چارپائیوں اور ضروری فرنیچر کی مناسب سہولت دستیاب نہیں ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ایک کمرے میں تقریباً 15 سے 20 بچوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جس کے باعث شدید بھیڑ بھاڑ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ مناسب وینٹی لیشن، صاف پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور بنیادی صحت سہولتوں کی بھی کمی بتائی گئی ہے۔
بالخصوص طالبات کے ہاسٹلز کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ کئی مقامات پر خاتون وارڈن کی تقرری، سی سی ٹی وی نگرانی، علیحدہ سیکورٹی انتظامات اور داخلہ و خروج کے کنٹرول جیسے لازمی اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ فائر سیفٹی آلات اور ایمرجنسی اخراج کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے ہیں۔
شفاعت حسین نے اپنے مکتوب میں متنبہ کیا ہے کہ اگر بروقت جانچ اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے ریاستی سطح پر خصوصی تفتیشی مہم چلانے، غیر قانونی ہاسٹلز کی نشاندہی کرنے اور مقررہ معیارات پر پورا نہ اترنے والے مدرسہ منتظمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

