ادب اطفال کے تئیں قومی اردو کونسل کی سرگرمیاں قابل تعریف: پروفیسر مظہر احمد
زبان کے زندہ رہنے کے لیے ادب اطفال کی تخلیق ضروری: جناب شوکت
دہلی: 2026 میونسپل کارپوریشن اسکول، حوض رانی، گاندھی پارک، نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام رسم اجرا و مذاکرہ کی تقریب منعقد کی گئی جس میں کونسل سے شائع ہونے والی کہانی کی کتاب “بلیک بورڈ” کا اجرا عمل میں آیا۔
اس تقریب کی صدارت ایم سی ڈی اسکول، حوض رانی (اردو) کے سابق پرنسپل جناب شوکت نے کی جبکہ شاہ حسن سیفی (رشین ایجوکیشن ایڈمیشن کونسلر، نئی دہلی) بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ مقررین کی حیثیت سے پروفیسر مظہر احمد(شعبۂ اردو، ذاکر حسین کالج، دہلی) اور ڈاکٹر معین الدین (شعبۂ اردو، ذاکر حسین
کالج، دہلی) نے شرکت کی۔ اس موقع پر ’بلیک بورڈ‘ کے مصنف ڈاکٹر حبیب سیفی،میونسپل کارپوریشن اسکول، حوض رانی (اردو) کے پرنسپل جناب نظام الدین اور ریسرچ
اسسٹنٹ،این سی پی یو ایل، ڈاکٹر فیضان الحق کے علاوہ متعدد علمی و ادبی شخصیات اور اسکول کے طلبہ موجود رہے۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر فیضان الحق نے قومی اردو کونسل کی مختلف سرگرمیوں کا ذکر کیا اور ادب اطفال سے متعلق ادارے کے فعال ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ادب اطفال اور مادری زبان کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر حبیب سیفی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کتاب کی اشاعت پر قومی اردو کونسل کا شکریہ ادا کیا اور ادب اطفال کے تئیں ادارے کی سنجیدہ کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی کہانی ’بلیک بورڈ‘ بھی پیش کی۔
کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے پہلے مقرر پروفیسر مظہر احمد نے مصنف کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ حبیب سیفی نے بلیک بورڈ کو زبان دے کر بچوں سے مکالمہ قائم کیا ہے۔ ادب اطفال کی تخلیق سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوئے زبان واسلوب اور تحیر و تجسس پر توجہ دینی ضروری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے بچوں کے معروف ادیب و قلم کار اشرف صبوحی کا بھی ذکر کیا۔انھوں نے ادب اطفال کے تئیں قومی اردو کونسل کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ایک اہم کارنامہ قرار دیا۔
دوسرے مقرر ڈاکٹر معین الدین نے کتاب”بلیک بورڈ”پر اظہار خیال کرتے ہوئے بچوں کی تربیت پر زور دیا اور کہا کہ یہی بچے ملک و قوم کی تعمیر کی بنیاد ہیں اس لیے ان کی فکر کرتے ہوئے معیاری ادب اطفال کی تخلیق ضروری ہے۔ انھوں نے بلیک بورڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح مثبت کردار اور مثبت پیغام پرمبنی مزید کہانیاں لکھنے کی ضرورت ہے۔
مہمان خصوصی شاہ حسن سیفی نے تقریب کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر حبیب سیفی کو مبارکباد پیش کی اور اس اہم تقریب کے انعقاد کے لیے قومی اردو کونسل کا شکریہ ادا کیا۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے جناب شوکت نے نئی نسل میں اردو کے فروغ کی اہم کوششوں پر خوشی کا اظہار کیا اور صاحب کتاب کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کے زندہ رہنے کے لیے اس زبان میں معیاری ادب اطفال کی تخلیق ضروری ہے۔
یہ تقریب جناب نظام الدین کے کلمات تشکر پر اختتام پذیر ہوئی۔ نظامت کے فرائض محترم عرفان راہی نے انجام دیے۔

