لکھنؤ،سماجوادی پارٹی کے دفتر، لکھنؤ میں آج مرحوم عزیز قریشی (سابق گورنر) کی دوسری برسی کے موقع پر ایک پُر وقار تعزیتی اجلاس اور گل پوشی کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام اکھلیش یادو کی صدارت میں انجام پایا، جس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں، عہدیداران اور کارکنان نے مرحوم کی تصویر پر پھول نچھاور کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر مرحوم عزیز قریشی کے سیاسی جانشین اور سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری سفیان قریشی کی خصوصی شرکت رہی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے مرحوم عزیز قریشی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کی بدولت مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ایکٹ کو منظوری مل سکی، ورنہ یہ کام تقریباً ناممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم کام کے لیے عزیز قریشی کو ذاتی اور سیاسی سطح پر نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمیشہ ملک کے سیکولر تانے بانے کو مضبوط کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سیاست کو فروغ دیا۔
اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ سفیان قریشی آج سماجوادی پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ہم سب مل کر 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں کو شکست دیں گے اور جمہوری طاقت کے ذریعے فسطائی قوتوں کو منہ توڑ جواب دیں گے۔
اجلاس میں موجود رہنماؤں اور کارکنان نے مرحوم عزیز قریشی کی عوامی زندگی، ان کی جدوجہد اور جمہوری اقدار کے لیے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر مولچند چوہان، اکھلیش کٹیہار، وکی صدیقی، انور قادر، محمد ارشد (دَدّا)، وقاص وارثی سمیت متعدد سینئر رہنما موجود رہے۔

