یونیورسٹی نے معمول کے مطابق حقائق سامنے لانے والی داخلی آڈٹ رپورٹ( جس میں ₹ ۶۱,۷۹,۷۷۷/ (اکسٹھ لاکھ اناسی ہزار سات سو ستتر روپئے) کی رقم ظاہر کی گئی تھی) کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک اور فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی (ایف ایف آئی سی) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یونیورسٹی کیمپس میں یہ چرچا ہے کہ آیا یونیورسٹی سچ سامنے لانا چاہتی ہے یا ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟
رپورٹ ایس منیرعلی گڑھ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ملک بھر میں اپنی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے مقصد سے ملاپورم، کیرالا؛ مرشد آباد، مغربی بنگال؛ اور کشن گنج، بہار میں تین مراکز قائم کیے تھے۔ مراکز کے ڈائریکٹروں کی تقرری یونیورسٹی نے متعلقہ فرد کی آبائی ریاست کو مدنظر رکھتے ہوئے کی تھی۔ ان مراکز کی فراہم کردہ تعلیم اب تک واضح طور پر منظر عام پر نہیں آئی، تاہم سنگین مالی بے ضابطگیوں اور یونیورسٹی فنڈز کے مشتبہ غلط استعمال/خوردبرد کا اعتراف آفس میمو (او ایم) نمبر D/DE/591/FFI/GF-06 مورخہ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ کے ذریعے کیا گیا ہے، جس میں ₹ ۶۱,۷۹,۷۷۷/ (اکسٹھ لاکھ اناسی ہزار سات سو ستتر) کی رقم کا ذکر کرتے ہوئے کشن گنج مرکز میں مزید تحقیقات کے لیے ایف ایف آئی سی قائم کی گئی ہے۔

او ایم میں بے ضابطگیوں کو تین عنوانات کے تحت درج کیا ہے— ترقیاتی فنڈز کا غلط استعمال ۱۳؍ لاکھ ،۶؍ ہزار،۳؍ سو؛ غیر مناسب کرایہ اور اضافی اخراجات ۲۷؍لاکھ،۸۲؍ہزار؛ اور دیگر مالی و طریقۂ کار کی خامیاں۔ ان زمروں میں نقد ادائیگیاں، ٹی ڈی ایس کی کٹوتی نہ کرنا، منظوری کے بغیر زائد ادائیگی، بینک سے نقد رقم نکالنا، پیشگی ادائیگیوں کا تصفیہ نہ ہونا، کوتاہیوں کے باعث جرمانوں کی ادائیگی، مقررہ طریقۂ کار کے بغیر فنڈز کا استعمال، جاری کردہ مقصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے فنڈز کا استعمال، ڈائریکٹروں سمیت ٹی اے؍
ڈی اے کی غیر واجب ادائیگی، ایک ہی وینڈر کو بار بار ادائیگی وغیرہ شامل ہیں۔ ایف ایف آئی سی کو مالی مدت ۲۳۔ ۲۰۲۰ تک کا جائزہ لینا ہے۔ اس عرصے میں پروفیسر راشد نہال، شعبۂ انگریزی ، اے ایم یو نے اپریل ۲۰۱۹ سے اکتوبر ۲۰۱۹ تک مختصر مدت کے لیے خدمات انجام دیں ، اسکے بعد پروفیسر حسن امام، شعبۂ تاریخ، اے ایم یو نے اکتوبر ۲۰۱۹ سے ۲۰۲۳ تک طویل مدت تک ذمہ داری سنبھالی۔

وائس چانسلر نے دو رکنی ایف ایف آئی سی تشکیل دی ہے، جسکے چیئرمین پروفیسر عبدالعلیم (ریٹائرڈ)، شعبۂ ہندی ہیں اور پروفیسر محمد اشرف، شعبۂ ریاضی کو رکن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ او ایم میں درج ہے: “رپورٹ شدہ بے ضابطگیوں کی روشنی میں…۔” ایف ایف آئی سی کی شرائط حوالہ میں کل خردبرد/ضائع شدہ رقم کا تعین کرنا، ڈائریکٹروں کے کردار کا جائزہ لینا، خامیوں کی نشاندہی کرنا اور رقوم کی وصولی کے لیے ضروری اقدامات تجویز کرنا شامل ہے۔ ان خردبرد کو انتہائی سنگین قرار دینے کے باوجود کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی، سوائے اسکے کہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ “جلد از جلد” پیش کرنی ہے۔
الزامات میں انتظامی فنڈز کا منظم غلط استعمال اور جی ایف آر (جنرل فنانشل رولز) کی خلاف ورزی شامل ہے، جیسے ترقیاتی فنڈز کو بغیر منظوری تعمیراتی کاموں میں منتقل کرنا، غیر مجاز کام، مناسب خریداری کے عمل کے بغیر ہاسٹل کی مرمت؛ گاڑیوں اور گیسٹ ہاؤسز کا غیر مناسب کرایہ؛ یوٹیلیٹی بلوں کی دوہری ادائیگی؛ بڑی مقدار میں نقد رقم نکالنا؛ ماخذ پر ٹیکس کی کٹوتی کا فقدان؛ پیشگی ادائیگیوں کا عدم تصفیہ؛ اور اسٹاک رجسٹروں کی نامناسب دیکھ بھال۔
داخلی آڈٹ رپورٹ ۱۹؍فروری ۲۰۲۴کو یونیورسٹی کو پیش کی گئی تھی، یعنی تقریباً دو سال قبل۔ یہ رپورٹ قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز کے دور میں دو ماہ تک زیر التوا رہی اور موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، جنہوں نے۲۲؍اپریل ۲۰۲۴کو عہدہ سنبھالا، کے دور میں بھی یہ تقریباً دو سال سے کم عرصہ تک زیر التوا رہی۔ تاخیر کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ متعلقہ فائل فنانس آفس کی جانب سے ان کے سامنے پیش نہ کی گئی ہو، جو مشتبہ ہے، یا انہیں معاملے کی سنگینی پر فیصلہ کرنے میں تقریباً دو سال لگ گئے۔
کیمپس میں سوالات گردش کر رہے ہیں، مثلاً تسلیم شدہ سنگینی کے باوجود معاملہ اتنے طویل عرصے تک زیر التوا کیوں رکھا گیا؟ یونیورسٹی کے اساتذہ پوچھ رہے ہیں کہ ایف ایف آئی سی کی تقرری کا او ایم تقریباً دو سال بعد۱۳؍فروی ۲۰۲۶ کو کیوں جاری کیا گیا، جبکہ اسمیں کئی خامیاں ہیں، جیسے یہ دو رکنی کمیٹی ہے، حالانکہ برابری کی صورت سے بچنے کے لیے عموماً طاق ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی جاتی ہے ۔ پھر صرف ریٹائرڈ اساتذہ کو کیوں شامل کیا گیا، جو یونیورسٹی کے کسی افسر یا ادارے کے زیر کنٹرول نہیں اور اس لیے اپنی رپورٹ کے لیے جوابدہ نہیں ہوں گے؟ جب معاملہ مالی ہے تو متعلقہ شعبے کے کسی ماہر کو کمیٹی میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ کمیٹی کے ارکان مالی امور سے بخوبی واقف نہیں، لہٰذا کمیٹی کی دصلاحیت پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور یہ اندیشہ بھی ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی ہوگی۔ اساتذہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ کمیٹی کو کوئی ٹائم لائن فراہم نہیں کی گئی۔کچھ سینئر اساتذہ کا خیال ہے کہ یا تو وائس چانسلر کو فنانس آفس پر اعتماد نہیں یا وہ اسے باصلاحیت نہیں سمجھتیں، یا انہیں یہ احساس ہے کہ فنانس آفس میں کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے اور اسی لیے غلط استعمال اور خردبرد مکمل طور پر رپورٹ میں سامنے نہیں آئی اور ممکن ہے کہ اس سے کہیں زیادہ رقم کا غلط استعمال ہوا ہو۔
اس سلسلہ میں رد عمل کے لیے وائس چانسلر اور ایم آئی سی، پی آر او کو واٹس ایپ کے ذریعے میسج بھیجا گیا، لیکن اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

