لکھنؤ، اتر پردیش کانگریس کے صدر اور سابق وزیر اجے رائے نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے، جو اب سرکاری تقریبات میں بھی نمایاں ہونے لگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے یومِ تاسیس پروگرام میں وزیر اعلیٰ کی غیر موجودگی اور انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بھی شامل نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور کشیدگی اپنے عروج پر ہیں۔
اجے رائے نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی آپسی لڑائی کی وجہ سے ریاست کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً دس برسوں میں حکومت کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور تاجروں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، روزگار فراہم کرنے اور بہتر قانون و انتظام کے دعوے زمینی سطح پر نظر نہیں آتے۔
انہوں نے پریاگ راج اور لکھنؤ میں نوجوانوں پر لاٹھی چارج، 69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملہ اور انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹنے جیسے مسائل کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
گاؤ ماتا کے حوالے سے بھی انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وارانسی کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤ ماتا کی حالت نہایت تشویشناک ہے اور حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
اجے رائے نے مزید بتایا کہ عظیم سماجی مصلح جیوتیبا پھولے کی یومِ پیدائش کے موقع پر کانگریس پارٹی ایک وکلاء کانفرنس کا انعقاد کرے گی، جس میں راجیہ سبھا کے رکن ابھیشیک منو سنگھوی اور سپریم کورٹ کے معروف وکیل و سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید شرکت کریں گے۔
اس پریس کانفرنس میں آصف رضوی رِنکو، انشو اوستھی اور اوماشَنکر پانڈے بھی موجود رہے۔

