علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی مرزا کی اہم اور تاریخی تصنیف ’’واجد علی شاہ کی ادبی اور ثقافتی خدمات‘‘ کے انگریزی ترجمے کی رسمِ اجرا کے سلسلے میں رشید احمد صدیقی آڈیٹوریم میں ایک نہایت شاندار، باوقار اور علمی تقریب منعقد ہوئی۔ اس ادبی و فکری نشست میں یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ، محققین، ادیبوں، دانشوروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا ماحول علمی سنجیدگی، تہذیبی شعور اور ادبی وقار سے بھرپور رہا، جہاں واجد علی شاہ کی شخصیت، ان کی ادبی خدمات، ثقافتی کارناموں اور ان کے خلاف کی گئی تاریخی سازشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔

تقریب کی صدارت شعبۂ اردو کی سابق صدر پروفیسر آذرمی دخت صفوئی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں واجد علی شاہ کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے انگریزی ترجمے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی، کیونکہ انگریزوں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت نواب واجد علی شاہ کی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اودھ کے آخری نواب کو محض عیش و عشرت پسند حکمراں کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک غیر معمولی ادیب، بلند پایہ شاعر، موسیقی کے دلدادہ، فنونِ لطیفہ کے سرپرست اور تہذیبی شعور رکھنے والی عظیم شخصیت تھے۔ ان کے مطابق اس کتاب کا انگریزی ترجمہ نہ صرف تاریخی غلط فہمیوں کو دور کرے گا بلکہ عالمی سطح پر واجد علی شاہ کی اصل شخصیت اور خدمات کو بھی متعارف کرائے گا۔
ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی مرزا کی اس اہم کتاب کا انگریزی ترجمہ ان کی صاحبزادی پروفیسر طلعت فاطمہ نے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کتاب کے تحقیقی پس منظر اور اپنے والد کی علمی جدوجہد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے اس موضوع کو اپنے پی ایچ ڈی مقالے کے لیے منتخب کیا تھا، لیکن اس وقت بعض اساتذہ نے انہیں اس موضوع پر تحقیق کرنے سے منع کیا، کیونکہ اس دور میں واجد علی شاہ کے تعلق سے منفی اور گمراہ کن تصورات عام تھے، جنہوں نے ان کی اصل خدمات کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا۔

پروفیسر طلعت فاطمہ نے کہا کہ ان کے والد نے تمام رکاوٹوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور برسوں کی محنت، تحقیق اور مختلف شہروں کے سفر کے بعد تاریخی مواد جمع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واجد علی شاہ ایک غیر معمولی ادبی شخصیت تھے، جنہوں نے صرف 26 برس کی عمر میں ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل مثنوی ’’عشق نامہ‘‘ تحریر کی، جبکہ 67 برس کی عمر میں 48150 اشعار پر مشتمل مثنوی ’’صبا تل قلوب‘‘ جیسا عظیم ادبی شاہکار تخلیق کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسی عظیم علمی و ادبی شخصیت کو صرف ایک دنیا پرست حکمراں کے طور پر پیش کرنا تاریخ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
معروف صحافی شکیل حسن شمسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انگریزوں نے واجد علی شاہ کی شخصیت کو بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی نے بارہ اخبارات کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کیا تھا کہ واجد علی شاہ کے خلاف منفی فضا قائم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں واجد علی شاہ ادب، موسیقی، تہذیب اور فنونِ لطیفہ کے بے مثال سرپرست تھے، لیکن استعماری طاقتوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ان کی شبیہ کو داغدار کیا تاکہ عوام کی نظروں میں انہیں کمزور ثابت کیا جا سکے۔

تقریب میں دیگر مقررین نے بھی واجد علی شاہ کی ادبی، ثقافتی اور تاریخی خدمات پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کو اس کے اصل تناظر میں پیش کرنا آج کے دور کی اہم ضرورت ہے تاکہ نئی نسل سچائی سے واقف ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ عالمی علمی حلقوں میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے اردو ادب، اودھ کی تہذیب اور ہندوستان کی ثقافتی روایت کو نئی شناخت ملے گی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر جوہر نے انجام دیے۔ اس موقع پر ظفر عالم، نزہت فاطمہ، پروفیسر طارق چھتاری، پروفیسر سراج اجملی، صدر شعبۂ اردو قمر الہدی فریدی اور دیگر اہلِ علم نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔
پروگرام کے اختتام پر مترجمہ پروفیسر طلعت فاطمہ اور مصنف ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی مرزا کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس ترجمے کو علمی و ادبی دنیا کے لیے ایک اہم اور قابلِ قدر پیش رفت قرار دیا گیا۔

