جدید تعلیمی ٹکنالوجی سے جڑنے کی اہمیت،’’تاریخ دکن جرنل‘‘ کے زیراہتمام اصلاحی اجلاس،اہم دانشوروں اور ماہرین کی شرکت
حیدرآباد:18؍مئی/اظہر عمری
مساجد صرف عبادت کے مقامات نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرتی، تعلیمی اور اخلاقی زندگی کے لیے بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام میں مساجد کو مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہاں نہ صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ یہ علمی اور ثقافتی ترقی کے مراکز بھی بن سکتی ہیں، جہاں تعلیمی کلاسیں، لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کی جا سکتی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو دینی اور دنیاوی علم کے مواقع فراہم ہوں۔ مسجد معاشرتی رابطے کا مرکز بھی ہے، جہاں غرباء اور یتیموں کی مدد، صحت کے کیمپ، اور کمیونٹی کی میٹنگز کا انتظام کیا جا سکتا ہے، جو معاشرے میں بھائی چارے اور تعاون کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ مساجد مسلمانوں کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرتی ہیں اور اسلامی تاریخ میں بھی مساجد میں اہم سماجی اور سیاسی فیصلے لیے جاتے تھے،
جو معاشرے کو درست سمت دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیں سچائی، صبر، عدل اور محبت سکھاتی ہیں۔ اگر مسلمان دین کے اصولوں کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں تو معاشرت میں امن، بھائی چارہ اور عدل قائم رہتا ہے۔ مساجد، مدارس اور دینی ادارے اس کام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیاوی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ یہ انسان کو معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی راہ دکھاتی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طبیعات، ریاضی اور دیگر شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنے سے مسلمان جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ترقی کر سکتے ہیں۔ دنیاوی تعلیم کے بغیر دینی تعلیم کا اثر معاشرتی ترقی میں محدود رہ جاتا ہے۔ اسلام میں دنیا و دین کو الگ نہیں سمجھا گیا۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علم بھی حاصل کرے تاکہ وہ اپنی زندگی میں توازن پیدا کر سکے۔ اس امتزاج سے نہ صرف فرد کی شخصیت مضبوط ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ علمی، اخلاقی اور اقتصادی طور پر ترقی کرتا ہے۔آج کا دور علم و ٹکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور نئی اختراعات روزانہ رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید تعلیمی ٹکنالوجی سے خود کو جوڑیں تاکہ تعلیم کے میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں اور دین و دنیا دونوں میں ترقی کر سکیں۔ بعض جگہوں پر تکنیکی وسائل کی کمی یا مہنگائی کی وجہ سے طلبہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے، مگر جدید تعلیمی ٹکنالوجی مسلمانوں کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے جو انہیں علمی، اقتصادی اور دینی ترقی میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر مسلمان ٹکنالوجی سے جڑ جائیں تو نہ صرف اپنے معاشرتی اور معاشی حالات بہتر کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں اپنی پہچان بھی قائم کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جدید تعلیمی وسائل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور علم کی روشنی میں دنیا و دین دونوں میں ترقی کریں۔دنیا آج تیز رفتار ترقی کے دور سے گزر رہی ہے اور ہر قوم اپنی معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی اور سائنسی ترقی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں نہ صرف محنت بلکہ ذہانت، علم اور اخلاق کی بھی ضرورت ہے۔ معاشی ترقی ہر قوم کی طاقت ہے، اس لیے اپنے ملک اور معاشرے میں صنعت، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ ہم دیگر قوموں کے مقابلے میں خود کفیل اور مضبوط بن سکیں۔ جدید دنیا میں تحقیق، ایجادات اور تکنیکی مہارت اہم ہیں۔ دیگر قومیں سائنسی تحقیق اور جدید ٹکنالوجی میں آگے بڑھ رہی ہیں، ہمیں بھی نوجوانوں کو تحقیقی سوچ اور جدید ٹکنالوجی میں تربیت دینی چاہیے تاکہ ہم عالمی معیار پر پہنچ سکیں۔ دور حاضر میں دیگر قوموں کے مقابلے میں ترقی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو علم، اخلاق، اقتصادی طاقت، سائنسی مہارت اور اجتماعی اتحاد پر زور دینا ہوگا۔ اگر ہم یہ سب عوامل اپنی زندگی اور معاشرے میں شامل کریں تو نہ صرف دنیا میں اپنی پہچان بنا سکتے ہیں بلکہ ایک کامیاب اور ترقی یافتہ مسلم قوم بھی بن سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار’’تاریخ دکن جرنل ‘‘ کے زیراہتمام ایک اصلاحی اجلاس ’’دورحاضر کے مسائل اور مسلمان ‘‘سے دانشوروعلمائے وکلا،ماہرتعلیم اساتذہ کررہے تھے۔جس کی صدارت جناب محمدواحدعلی خان سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کررہے تھے۔‘
اس پروگرام میں مخاطب کرنے والوں میں حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازؔی چشتی قادری کل ہند جمعیۃ المشائخ حا ل مقیم امریکہ‘جناب محسنؔ حبیب سابق جنرل سکریٹری حلقہ ادب اسلامی قطر‘محمدخواجہ معین الدین پرنسپل سعیدآباد اسکول وکالج ٹمریز‘جناب بصیرپرنسپل نظام آباد ٹمریز‘ڈاکٹرمحمدنجیب سفیربرائے امن‘اسٹنٹ پروفیسرڈاکٹروسیم اختر ‘ڈاکٹر سی وی رمن یونیورسٹی بہار‘اظہرعمری سینئرصحافی آگرہ‘ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری ایڈیٹرتاریخ دکن جرنل‘اسٹنٹ پروفیسرڈاکٹرسیدہ نجمہ سلطانہ ‘ڈاکٹرحافظ میر شاہ مرتضی علی قادری الحیدری لطیفی‘ سید نوید جعفری حال مقیم شکاگو امریکہ‘محمدجمال چشتی اورنگ آباد‘عبدالحامدمنان سینئر صحافی اس موقع پر ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازؔی چشتی قادری کوحج کی روانگی پرمبارکبادپیش کی گئی۔ جب کہ ڈاکٹرحافظ میرشاہ مرتضی علی قادری الحیدری لطیفی کی قرات کلام پاک سے محفل کاآغازہوا۔ جب کہ ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

