نئی دہلی: علامہ رفیق ٹرسٹ کی جانب سے “ایک شام محمود پراچہ کے نام” کے عنوان سے ایک اہم و باوقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت دہلی کے بزرگ شخصیت جناب ظہور احمد (اینچی والوں) نے کی۔ اس موقع پر دہلی بار کونسل کا انتخاب لڑ رہے معروف شخصیت محمود پراچہ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز ٹرسٹ کے صدر مقصود احمد کے خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے دہلی خصوصاً فصیل بند شہر کے اسکولوں کی خستہ حالی اور اساتذہ کی شدید قلت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے بند ہونے اور تعلیمی نظام کی کمزوری نے علاقے کے طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اولڈ بوائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ارشد فاخری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی کمی کے باعث اسکولوں کا تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ مقابلہ جاتی امتحانات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈیڈ مسلم اسکولوں میں نااہل سربراہان کے باعث تعلیمی محکمہ کے اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا، جس سے ان اداروں پر کسی بھی وقت کارروائی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
محمد ہاشمی نے اپنے خطاب میں تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ علاقے کی خستہ سیاسی و سماجی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خراب حالت، جگہ جگہ گڑھے اور پانی جمع ہونے جیسے مسائل عوام کے لیے بڑی پریشانی کا سبب ہیں، جبکہ شکایات کے باوجود بروقت کارروائی نہیں ہوتی۔
مہمانِ خصوصی محمود پراچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں یہاں آکر بے حد خوشی ہوئی اور وہ اس ادارے سے پرانا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ علاقے کے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے، اور آج کے دور میں جدید و تکنیکی تعلیم بے حد ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری اور ایڈیڈ مسلم اسکولوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ غریب طبقے کے بچے بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسلم تعلیمی اداروں کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف تعلیمی پسماندگی بڑھے گی بلکہ ہماری تہذیب و ثقافت بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ منظم ہو کر ایک پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔
پروگرام کے اختتام پر صدرِ مجلس ظہور احمد (اینچی والوں) نے مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبید العلیم، اقبال احمد (پہلوان)، محمد اویس (سینئر صحافی)، حکیم عطاء الرحمن اجملی (ایم ڈی، اے اینڈ ایس فارمیسی)، محمد وسیم صدیقی (جنرل سکریٹری، اولڈ بوائز فتح پوری مسلم سینئر سیکنڈری اسکول)، افسر ایڈوکیٹ، سلمان خان ایڈوکیٹ، کنور شہزادہ، ڈاکٹر مستجب، عبد اللہ مقصود، ڈاکٹر و حکیم مفتی جاوید انور، ڈاکٹر نجمی، ڈاکٹر زید احمد، فرزانہ، عائشہ، عبید احمد، اشفاق حسین نعمی (نعت خواں)، شاہد انصاری اور عمر دین سمیت دیگر معزز افراد موجود رہے۔

