ایران کی دفاعی حکمتِ عملی اور علاقائی اثرات پر گفتگوسے شرکائ کاخطاب
حیدرآباد: اکتوبر 2023 کو طوفان الاقصیٰ کاروائی کا نام نہاد دفاعی و جنگی مہارت کا دعویء باطل کرنے والے اسرائیل کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسرائیل کی کمر پر انتہائی کامیاب وار نے طاقت و دولت کے نشہ میں چور دنیا کو حیران اور ششدر کردیا تو 28 فروری 2026 کو اسرائیل و امریکہ کی جانب سے ایران پر کئے گئے ظالمانہ حملے کے جواب میں ایران کا امریکی جنگی اڈوں اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں تابڑ توڑ حملوں نے ظلم و جبر قتل و غارت میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑنے والے امریکی و اسرائیلی یہودیوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور طاقت و غرور کے معیار کو بھی توڑ پھوڑ دیا ہے ( اس پس منظر میں ایران اور غزہ کے درمیان سے اللہ تعالیٰ ایسے مجاہدین کو امت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے اٹھائے گا جو امت کی تاریخ بدل دیں گے اور امت مسلمہ کا شاندار ماضی دوبارہ لوٹ آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار کہنہ مشق شاعر و ادیب و سابق جنرل سیکریٹری حلقہ ادب اسلامی قطر جناب محسن حبیب ’’مکتب سدرۃ المنتہٰی اور مکتب تاج القرآن‘‘ کے مشترکہ آن لائن اجلاس سے کر رہے تھے۔
اس موقعہ پر امریکہ سے مولانا ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازؔی چشتی قادری سجادہ نشین و متولی آستانۂ حضرت سید شاہ ملک حسینیؒ، شاہ راج پیٹو مشیرِ قانونی کل ہند جمعیۃ المشائخ نے امریکہ اور ایران پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران و امریکہ کا تنازعہ ایک سیاسی حقیقت ہے، مگر مسلمانوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس میں تقسیم کا شکار بنتے ہیں یا اتحاد کا مظاہرہ کر کے حکمت اور عدل کی مثال قائم کرتے ہیں۔آج ہمیں فریق بننے کے بجائے اصولوں کا علمبردار بننا ہے۔عدل کی بات کرنی ہے، انسانیت کا ساتھ دینا ہے، اور ہر حال میں امن اور بھلائی کا پیغام عام کرنا ہے۔
جناب ایم اے نجیب سفیر برائے امن نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے حالات میں ہندوستان سمیت کئی ذمہ دار ممالک تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ ممالک جو توازن، غیرجانبداری اور سفارتی روابط رکھتے ہیں۔ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں امن، مکالمہ اور باہمی احترام کو اہمیت دی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے صرف ایک ملک نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری، علاقائی طاقتوں اور عالمی اداروں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہوتی ہیں۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے جناب محمد واحد علی خان سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے کہاکہ’’ دورِ حاضر میں وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان باہمی اتحاد، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے چیلنجز کا مقابلہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور مثبت حکمتِ عملی سے کرنا زیادہ مؤثر ہے۔ اس تناظر میں سب سے مضبوط اور پائیدار ہتھیار تعلیم ہے، جو نہ صرف فرد کو بااختیار بناتی ہے بلکہ پوری قوم کی سمت بھی متعین کرتی ہے‘‘۔
مہمان خصوصی اظہر عمری سینئر صحافی ضلعی صدر اترپردیش ورکنگ جرنسلسٹ یونین آگرہ‘ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایران موجودہ حالات میں عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنے مؤقف پر قائم نظر آتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ کسی بھی کشیدگی کا تسلسل بڑے پیمانے کے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ایسے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں کہ اگر حالات پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازعہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتا ہے۔اس نازک موقعہ پر ضروری ہے کہ تمام فریق صبر، حکمت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ جذباتی ردِعمل کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی پیغام متعلقہ اداروں، بشمول ایران کے قونصل خانوں تک پہنچنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں تحمل اور مکالمہ ہی بہترین راستہ ہے۔آج امت اور عالمی برادری دونوں کے لیے یہ وقت اتحاد، دانشمندی اور ذمہ داری کا ہے۔ اگر صبر، تدبر اور بات چیت کو اپنایا جائے تو نہ صرف کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ایک پر امن اور مستحکم مستقبل کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ سلطانہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اتحاد کا مطلب صرف نعرہ نہیں بلکہ عملی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا، برداشت کو فروغ دینا اور مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اگر تعلیم، نظم و ضبط اور باہمی احترام کو اپنایا جائے تو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور باوقار مستقبل بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
(ایران کی معروف قم یونیورسٹی سے حال ہی میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد حیدرآباد تشریف لائے)حجت الاسلام والمسلمین مولانا باسط علی نے اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا کہ ایران کی موجودہ ریاستی شناخت 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایک اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی جس کے بعد ایران نے اپنی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی۔’’ لڑنے کی صلاحیت‘‘ کے حوالے سے ایران کو عموماً اس کی دفاعی حکمتِ عملی، علاقائی اثر، اور غیر روایتی عسکری طریقوں کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ ایران کی فوجی قوت میں اس کی باقاعدہ فوج کے ساتھ ساتھ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) بھی شامل ہے، جو ملکی دفاع اور علاقائی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران نے میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز اور دفاعی نظام میں بھی خاصی پیش رفت کی ہے۔عبد الحامد منان سینئر صحافی نے کہا کہ ایران کے نوجوانوں نے جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ مشکل حالات اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے باوجود ان کا یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے عزم اور حوصلے کی زندہ علامت ہے، تاہم ایسے حالات میں جذبات کے ساتھ ساتھ دانشمندی اور بصیرت کو بھی پیشِ نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی ردِ عمل کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اتحاد، شعور اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
سید شاداب احمد رضوی بانی و پرنسپل مکتب سدرۃ المنتہٰی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا ۔پھر جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آتی گئی ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلا تعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس 40 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں یا اس کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو روکنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔
ڈاکٹر سید حبیب امام قادری (ایڈیٹر تاریخ دکن جرنل) نے کہا کہ قرآن امن، رواداری اور مکالمے کو فروغ دیتا ہے، اور سکھاتا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہی اصول بین الاقوامی تعلقات میں بھی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ممالک باہمی احترام، برداشت اور سنجیدہ مذاکرات کو ترجیح دیں تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح تاریخِ اسلام میں صحابہ کرام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی اتحاد، صبر اور حکمت کو اختیار کیا جائے۔ آج کی دنیا میں بھی انہی اصولوں کو اپناتے ہوئے امن، یکجہتی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ محمد اکرام الدین مرتضیٰ پاشاہ‘ سید شیر الدین قادری المعروف مقیم پاشاہ کنوینر اجلاس‘ ارشد حسین سماجی جہدکار‘ اسماء خاتون، ناظمہ سلطانہ، ساجدہ بیگم، محمد شبیر احمد اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ سید شاداب احمد رضوی نے تمام شرکاء اجلاس کا شکریہ اداکیا۔ مولانا سید شاہ سمیع اللہ حسینی سجادہ نشین کی پرخلوص و رخت آمیز دعاؤں سے اس اہم اور بروقت منعقد کئے گئے اجلاس کا بحسن و خوبی اختتام عمل میں آیا ۔

