آگرہ: میوا کٹرا میں واقع آستانہ حضرت میکش و خانقاہ قادریہ نیازیہ میں مفکرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت سید علامہ محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی کا
سالانہ عرس مبارک 9، 10، 11 اور 12 شوال 1447ھ (مطابق 29، 30، 31 مارچ اور یکم اپریل 2026) نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
عرس کی تقریبات میں ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے مریدین، عقیدت مندوں اور اہلِ علم و ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور فیوض و برکات حاصل کیے۔

چادر پوشی، میلاد اور رسمِ قل سے ہوا آغاز
عرس کے پہلے روز درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادری پنجہ مدرسہ شاہی آگرہ پر چادر پیش کی گئی۔ بعد ازاں آستانہ حضرت میکش پر سہ پہر 3 بجے میلاد شریف سرکارِ دو عالم ﷺ منعقد ہوا، جبکہ شام 5:15 بجے رسمِ قل (خاص) ادا کی گئی۔
قرآن خوانی، محفلِ سماع اور نعتیہ مشاعرہ
دوسرے روز نمازِ فجر کے بعد قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ نمازِ ظہر کے بعد آستانہ حضرت میکش پر محفلِ سماع (قوالی) منعقد ہوئی، جس میں صوفیانہ کلام نے حاضرین کو روحانی سرور سے سرشار کر دیا۔
رات 9 بجے نعتیہ و منقبتی مشاعرہ بھی منعقد ہوا، جس میں شعراء کرام نے بارگاہِ رسالت ﷺ اور اولیائے کرام کی شان میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
رنگ و سلام کے ساتھ اختتام، خصوصی دعا کا اہتمام
عرس کی تقریبات کا اختتام رنگ اور سلام کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر سجادہ نشین پیرِ طریقت حضرت سید محمد اجمل علی شاہ نے ملک و ملت اور پوری انسانیت کے لیے خصوصی دعا کرائی۔
11ویں شریف کے موقع پر حضور غوثِ اعظمؓ کی فاتحہ دلائی گئی، جبکہ 12 شوال کو نمازِ مغرب کے بعد فاتحہ دسترخوان خیر الانام سرکارِ دو عالم حضرت محمد ﷺ کے نام سے پیش کیا گیا، جس میں عقیدت مندوں نے شرکت کر کے دعائیں اور منتیں مانگیں۔
حضرت میکش اکبرآبادیؒ: تصوف و ادب کی ممتاز شخصیت
حضرت سید علامہ محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی کی ولادت 3 مارچ 1902 کو آگرہ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید اصغر علی شاہ جعفری قادری نظامی تھا۔ آپ ایک ایسے معزز اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جو صدیوں سے خدمتِ خلق اور روحانی تربیت میں مصروف ہے۔
آپ سلسلہ قادریہ، چشتیہ، نظامیہ و نیازیہ سے وابستہ تھے اور اہلِ سنت و الجماعت کے پیروکار تھے۔ آپ وحدت الوجود کے قائل تھے اور شیخ اکبر ابن عربی کے افکار سے خاص طور پر متاثر تھے۔
علمی و ادبی خدمات
حضرت میکش اکبرآبادیؒ نہ صرف ایک صاحبِ حال صوفی تھے بلکہ ایک بلند پایہ شاعر، نقاد اور مفکر بھی تھے۔ آپ کی اہم تصانیف میں
’مے کدہ‘، ’حرفِ تمنا‘، ’نغمہ اور اسلام‘، ’نقدِ اقبال‘، ’شرک و توحید‘ اور ’مسائلِ تصوف‘ شامل ہیں۔
آپ کی علمی خدمات کے اعتراف میں اترپردیش اردو اکادمی نے بھی آپ کو اعزازات سے نوازا۔ آپ کا وصال 25 اپریل 1991 کو آگرہ میں ہوا۔
خانقاہ: روحانیت اور گنگا جمنی تہذیب کا مرکز
یہ آستانہ نہ صرف ایک روحانی مرکز ہے بلکہ گنگا جمنی تہذیب، اخوت اور رواداری کی ایک زندہ علامت بھی ہے، جہاں صدیوں سے محبت، انسانیت اور تصوف کا پیغام عام کیا جا رہا ہے۔

