رمضان المبارک کے موقع پر اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ نہایت عمر رسیدہ افراد یا دائمی بیماری میں مبتلا اشخاص کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اس حوالے سے قرآن و حدیث میں واضح رہنمائی موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
“وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ” (سورۃ البقرہ: 184)
ترجمہ: اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ایک مسکین کو بطورِ فدیہ کھانا کھلائیں۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے بلکہ ایسے بوڑھے مرد و عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ یہ روایت صحیح بخاری (حدیث: 4505) میں مذکور ہے۔
شرعی وضاحت
🔹 نہایت بوڑھا شخص:
اگر کوئی شخص اس قدر ضعیف ہوچکا ہو کہ روزہ رکھنا ممکن نہ ہو اور آئندہ صحت یابی کی امید بھی نہ ہو، تو اس پر قضا لازم نہیں بلکہ ہر روز کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہے۔
🔹 دائمی مریض:
جس بیماری کے ٹھیک ہونے کی امید نہ ہو اور روزہ رکھنے سے نقصان کا اندیشہ ہو، وہ بھی فدیہ ادا کرے گا۔
🔹 عارضی مریض:
اگر بیماری وقتی ہو تو روزہ بعد میں قضا کرنا ضروری ہوگا، فدیہ کافی نہیں ہوگا۔
فدیہ کی مقدار
ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا یا صدقۂ فطر کے برابر غلہ (تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) دینا کافی ہے۔ بہتر ہے کہ مقامی علماء سے موجودہ قیمت کی تصدیق کرلی جائے۔
علمائے کرام نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی صحت اور استطاعت کے مطابق شریعت کے احکام پر عمل کریں اور کسی بھی اشکال کی صورت میں مستند علماء سے رجوع کریں۔

